
ادبی بیٹھک: حسینہ معین — شخصیت اور فن
ادب کسی بھی معاشرے کی روح ہوتا ہے، اور جب اس ادب کو زندہ گفتگو، تجربات اور خیالات کے تبادلے کے ذریعے پیش کیا جائے تو وہ ایک یادگار لمحہ بن جاتا ہے۔ اسی جذبے کے تحت یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی (UMT) پریس کی جانب سے ایک شاندار ادبی بیٹھک کا اہتمام کیا گیا، جس کا موضوع تھا: “حسینہ معین — شخصیت اور فن”۔
تعارفی کلمات
یہ ادبی نشست اردو ادب اور ڈرامہ نگاری کی ایک عظیم شخصیت، حسینہ معین، کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے منعقد کی گئی۔ حسینہ معین کا شمار پاکستان کے ان چند لکھاریوں میں ہوتا ہے جنہوں نے نہ صرف ڈرامہ نگاری کو نئی جہت دی بلکہ خواتین کے کردار کو ایک مضبوط اور خودمختار انداز میں پیش کیا۔
مہمانانِ گرامی
اس نشست میں اردو ادب اور فنونِ لطیفہ سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات نے شرکت کی، جن میں شامل تھے:
نیرم کہار
جلال شاہ
عکسی مفتی
منو بھائی
عمیرہ احمد
کشور ناہید
ان تمام مقررین نے حسینہ معین کی زندگی، ان کے فکری انداز، اور ان کے ڈراموں میں پیش کیے گئے سماجی پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔
نظامت
پروگرام کی نظامت معروف میزبان آمنہ مفتی نے کی، جنہوں نے نہایت خوبصورتی سے گفتگو کو آگے بڑھایا اور شرکاء کو موضوع کے ساتھ جوڑے رکھا۔
موضوع پر گفتگو
مقررین نے حسینہ معین کے فن کے مختلف پہلوؤں پر تفصیل سے بات کی:
کردار نگاری: ان کے ڈراموں میں خواتین کو ایک مضبوط، خودمختار اور باوقار کردار کے طور پر پیش کیا گیا۔
سماجی عکاسی: ان کے لکھے گئے ڈرامے معاشرتی مسائل، رشتوں کی پیچیدگیوں اور انسانی جذبات کی عکاسی کرتے ہیں۔
سادگی اور حقیقت پسندی: ان کے مکالمے سادہ مگر دل کو چھو لینے والے ہوتے ہیں، جو ناظرین کو حقیقت کے قریب لے جاتے ہیں۔
عمیرہ احمد اور کشور ناہید نے خاص طور پر اس بات پر زور دیا کہ حسینہ معین نے اردو ڈرامے کو ایک نیا معیار دیا، جس کی جھلک آج بھی جدید ڈراموں میں نظر آتی ہے۔
ادبی اہمیت
یہ ادبی بیٹھک نہ صرف حسینہ معین کے فن کو سراہنے کا موقع تھی بلکہ نوجوان نسل کو اردو ادب اور ڈرامہ نگاری کی اہمیت سے آگاہ کرنے کا ایک ذریعہ بھی بنی۔ اس طرح کی نشستیں ادب کو زندہ رکھنے اور نئی سوچ کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
تقریب کی تفصیلات
تاریخ: 14 فروری 2016
وقت: صبح 9:30 بجے
منتظم: UMT پریس
اختتامی کلمات
ادبی بیٹھک ایک ایسا پلیٹ فارم ثابت ہوئی جہاں ادب سے محبت کرنے والے افراد نے نہ صرف ایک عظیم لکھاری کو خراجِ تحسین پیش کیا بلکہ اردو ادب کی خوبصورتی اور وسعت کو بھی محسوس کیا۔ حسینہ معین کا فن ہمیشہ زندہ رہے گا اور آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بنتا رہے گا۔
