امجد اسلام امجد

ستمبر 2016
امجد اسلام امجد
طاہر پرویز مہدی:

بھیڑ میں اک اجنبی کا سامنا اچھا لگا
سب سے چھپ کر وہ کسی کا دیکھنا اچھا لگا

میں اپنی بات کا آغاز ادبی بیٹھک کے بنیادی تصور کے حوالے سے کرنا چاہوں گا۔ ہم دیکھتے بھی
ہیں اور محسوس بھی کرتے ہیں کہ ادب کے ساتھ ہمارے تعلیمی اداروں بالخصوص یونیورسٹیوں میں
ادب سے رابطہ اور تعلق گزشتہ تیس سے چالیس سالوں میں خاصا متاثر ہوا ہے۔ پیشہ ورانہ تعلیم میں
اضافہ تو ہوا اوریہ خوش آئند اور ضروری بھی تھا لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ علم و ادب
سے رابطہ استوار نہ ہو سکا۔ اس میں خاصی کمی آئی اور ہمارے طلبہ و طالبات کی ابتدائی تربیت
متاثر ہوتی رہی ہے۔ نظام تعلیم، تعلیمی نصاب اور طرز تعلیم ایسا ہوتا گیا کہ طلبہ و طالبات کے لیے
ادب و مطالعہ کے ساتھ بنیادی تعلق قائم کرنا ہی مشکل ہوتا گیا۔ زندگی کو سمجھنے ، اس کا شعور
حاصل کرنے اور اس کی مشکلات کا حل تلاش کرنے میں انہیں بہت مسائل کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
زندگی کو اپنی زبان میں سمجھنا بھی مشکل ہوتا گیا۔ ہم گلوبل ویلج کے تیسرے درجے کے شہری بن
کے رہ گئے ہیں۔ اس کو پہلے درجے پر لانے کے لیے اس تعلق کو بحال کرنا اور مضبوط کرنا بہت
ضروری ہے۔

میں یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی کو اس حوالے سے خصوصی مبارک دینا چاہتا ہوں۔
یونیورسٹی نے اس پروگرام کی وساطت سے بھرپور انداز میں اہل شعر و ادب کو یہاں جمع کرنے کی
روایت ڈالی ہے۔ اس پروگرام کو خوبصورت بنانے میں لاہوری ناشتہ بھی بہت خوش رہا ہے۔
ہم صوفیائے کرام کے بارے میں سنتے ہیں کہ جب وہ اپنا پغیام لے کر یہاں آئے تو لوگ ان کے
اردگرد جمع ہوتے گئے۔ ان کی تبلیغ میں خاص بات یہ تھی کہ وہ عام لوگوں میں گھل مل کے رہتے
تھے، ان کے ساتھ اٹھتے، بیٹھتے، کھاتے پیتے اور ان کی باتوں کا جواب دیتے تھے۔ اسی پلیٹ یا
برتن میں خود کھاتے جس میں کوئی مانگنے والا کھا رہا ہوتا تھا۔
آپ گھروں میں دیکھ لیں۔ تیس چالیس برس پہلے سارا کنبہ اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہونے کے
باوجود دستر خوان پر جمع ہو جاتا تھا۔ اس دوران میں وہ باہمی مسائل پر کھل کر بات بھی کرتے، ان
کا حل بھی ڈھونڈتے اور ان کی زندگی متوازن طریقے سے چلتی اور آگے بڑھتی رہتی تھی۔ اب
کھانے کی میز تو ہے لیکن عمومی طور پر لوگ جمع نہیں ہوتے۔ اگر ایسا اتفاق ہو بھی جائے تو آپ
مشاہدہ کر سکتے ہیں کہ ایک ہات میں موبائل ہوتا ہے اور دوسرا ہاتھ کھانے کی میز پر گردش کرتا
اشیائے خوردونوش تلاش کرتا نظر آتا ہے۔ ان کا ذہن کہیں اور گھوم رہا ہوتا ہے۔ چنانچہ ہم سب ایک
جگہ بیٹھ کر بھی ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھے نہیں ہوتے۔
میں سمجھتا ہوں کہ جس طرح ہم یہاں مل بیٹھے ہیں، یہ ہماری تہذیبی روایت بھی ہے اور ہمارے دین
کا حصہ بھی ہے کہ ہم ایک دوسرے کو کھانے پر مدعو کریں۔ اس سے محبت اور یگانگت پیدا ہوتی
ہے ۔ مجھے امید ہے کہ یو ایم ٹی پریس اس سلسلے کو جاری رکھے گا۔ شعر و ادب کے علاوہ بھی
فنون لطیفہ، اخلاقیات، سماجی علوم اور سائنس و ٹیکنالوجی کے حوالے سے یہاں بات ہوگی۔
سابق گورنر پنجاب میاں محمد اظہر میرے کلاس فیلو تھے۔ ہمیں ایک تقریب میں مدعو کیا گیا۔ یہ
تقریب ہمارے ہی سکول میں تھی۔ میں نے ہیڈ ماسٹر صاحب سے دریافت کیا کہ ہماری لائبریری والا
کمرہ کس طرف ہے؟ انہوں نے کہا کہ اسے تو ختم ہوئے سالوں بیت گئے ہیں۔
کئی ادیب ایسے ہیں جن کو سکول کے زمانے میں پڑھا اور مجھے ادب سے لگائو اور رغبت پیدا
ہوئی۔ انہی میں ایک بڑا نام شفیق الرحمن کا بھی ہے۔ وہ بہت عمدہ لکھنے والوں میں سے تھے۔ میری
نسل کے لوگ اس بات کی گواہی بھی دیں گے۔ ان کا مکالمہ بہت شگفتہ ہوتا تھا۔ میں اس پر پورا یقین
رکھتا ہوں کہ شعرو ادب کے بغیر کوئی انسان بھی مکمل انسان نہیں ہو سکتا۔
ان کلمات کے ساتھ میں آپ سب سے درخواست کروں گا کہ وہ میرے بارے میں، میرے کام اور شعر
و ادب کے حوالے سے بات کریں۔ میں یکطرفہ بات کا قائل نہیں ہوں۔ اس لیے میں آپ سے اور آپ
مجھ سے براہ راست باتیں کریں اور ہم ایک دوسرے کو سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کر سکیں
گے۔ میں چند چیزیں آپ کو سنانے کی اجازت چاہوں گا۔
میں روایت پسند آدمی ہوں۔ اس لیے آغاز میں حمدونعت سے کچھ سنائوں گا۔ میرے ہر شعری مجموعہ
اور کتاب کا آغاز بھی اسی طرح سے ہوتا ہے۔ میں شاید بہت اچھا باعمل مسلمان نہ ہوں لیکن میرے
جذبوں کا عالم بھی یہی ہے۔ جو آپ کا یا کسی اور مسلمان کا ہوتا ہے۔ چنانچہ میں نعت سے آغاز کر
رہا ہوں۔ حفیظ ثابت مرحوم نے مجھ سے بار بار یہ نعت سنی۔

میں ان کے نام آج یہ نعت کرتا ہوں:
ابر، خورشید، قمر، روشنی، پھول سدا
سب تھے موجود مگر ان کا مفہور نہ تھا
کوئی بھی چیز کوئی چیز نہ تھی
سِرِّ مخفی تھا خدا
سنگ اور گوہر نایاب میں تفریق نہ تھی
دو غزلوں کے چند اشعار پیش کرتا ہوں
درودیوار ہیں مکان نہیں
واقعہ ہے یہ داستان نہیں
وقت کرتا ہے ہر سوال کو حل
زیست مکتب ہے امتحاں نہیں
شور کرتے ہیں ٹوٹتے رشتے
ہم کو گھر چاہیے مکان نہیں
یوں جو بیٹھے ہو بے تعلق سے
کیا سمجھتے میری زبان نہیں
اور یہ غزل
جہاں کشتی رکی میری کنارہ اور تھا کوئی
جسے میں دوست سمجھا تھا ستارہ اور تھا کوئی
فلک کی بالکونی میں خدا خاموش بیٹھا تھا
تو کیا ان گرنے والوں کا سہارا اور تھا کوئی
بہت عادل سہی منصف مگر انصاف کیسے ہو؟
گواہی اور ہے قاتل ہمارا اور تھا کوئی
اور
مرنے کا تیرے غم میں ارادہ بھی نہیں ہے
ہے عشق مگر اتنا زیادہ بھی نہیں ہے

ہے یوں کہ عبارت کی زباں اور ہے کوئی
کاغذ میری تقدیر کا سادہ بھی نہیں ہے
میری کوشش ہے کہ آپ جیسے اہل علم و ادب کی محفل میں وہ اشعار سنائوں جو عام طور پر
مشاعروں میں نہیں سنائے جاتے۔ ایک تازہ غزل کے اشعار پیش کرتا ہوں۔
گزرتے وقت کا نوحہ سنا ہی کیوں جائے؟
جو کام بس سے ہو باہر کیا ہی کیوں جائے؟
یہ آئے دن کا تماشا یہاں لگائیں کیوں؟
تمام شہر کا ذمہ لیا ہی کیوں جائے؟
جو زندگی ہو فقط مہ و سال کی گنتی
تو یہ حساب کا پرچہ دیا ہی کیوں جائے؟
جو اپنے پائوں سے رستے نہیں بنائے ہوئے
سوال یہ ہے کہ ان پر چلا ہی کیوں جائے؟
جہاں خلوص الفت نہ دید ہے نہ لحاظ
تو ایسے شہر میں امجد رہا ہی کیوں جائے؟
حاضریں کی مختلف غزلوں اور نظموں کی فرمائش پر امجد اسلام امجد نے یہ اشعار پڑھے:
تیرے اردگرد وہ شور تھا میری بات بیچ میں رہ گئی
نہ میں کہہ سکا نہ تو سن سکا میری بات بیچ میں رہ گئی
تیرے شہر میں میرا ہم سفر وہ دکھوں کا جم غفیر تھا
مجھے راستہ نہیں مل سکا میری بات بیچ میں رہ گئی
تھا جو شور میری صدائوں کا میری نیم شب کی دعائوں کا
ہوا ملتفط جو میرا خدا میری بات بیچ میں رہ گئی
تیری کھڑکیوں پہ جھکے ہوئے کئی پھول تھے ہمیں دیکھتے
تیری چھت پہ چاند ٹھہر گیا میری بات بیچ میں رہ گئی
مجھے وہم تھا تیرے سامنے نہیں کھل سکے گی زباں میری
سو حقیقتاً بھی وہی ہوا میری بات بیچ میں رہ گئی

ایک چھوٹی سی نظم ’’روبوٹ‘‘ کے عنوان سے لکھی ہے۔ پیش کرتا ہوں:
مجھے فطرت کے حسن بے نہایت سے محبت ہے
کہ میں خود اس کا حصہ ہوں
اسی کی بے کناری میں مجھے حیران رہنے دو
مجھے روبوٹ بننے سے بہت ہی خوف آتا ہے
نہ چھینو مجھ سے میرے خواب کہ یہ ان بنی دنیا
میرے رشتے میرے ہم دم، کتابیں شاعری موسم
مجھے روبوٹ کی صورت مشینی زندگی کی
بے ثمر مٹی میں مت ڈالو
میری پہچان رہنے دو، مجھے انسان رہنے دو

ممتاز راشد بابر بار ایک غزل کا کہہ رہے ہیں‘ پیش کرتا ہوں:
حساب عمر کا اتنا سا گوشوارہ ہے
تمہیں نکال کے دیکھا تو سب خسارہ ہے
عجب اصول ہیں اس کا روبارِ دنیا کے
کسی کا قرص کسی اور نے اتارا ہے
ہر اک صدا جو ہمیں بازگشت لگتی ہے
نجانے ہم ہیں دوبارہ کہ یہ دوبارہ ہے
نجانے کب تھا کہاں تھا مگر یہ لگتا ہے
یہ وقت پہلے بھی ہم نے کہیں گزارا ہے
یہ دو کنارے تو دریا کے ہو گئے ہم تم
مگر وہ کون ہے جو تیسرا کنارہ ہے
آخر میں آپ کو نظم سنانا چاہتا ہوں۔ اس کا تعلق اس زمانے سے ہے جب میں پڑھایا کرتا تھا۔ بچوں کا
ٹیسٹ لے رہا تھا اور دیکھ رہا تھا کہ بچے کس طرح نقل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ میں نے اس
نظم کا عنوان بھی ’’کمرہ امتحان میں‘‘ رکھا ہے:
بے نگاہ آنکھوں سے دیکھتے ہیں پرچے کو

بے خیال ہاتھوں سے ان بنے سے لفظوں پر
انگلیاں گھماتے ہیں
یا سوالنامے کو دیکھتے ہی جاتے ہیں
ہر طرف کن اکھیوں سے بچ بچا کے تکتے ہیں
دوسروں کے پرچوں کو راہنما سمجھتے ہیں

ایک نظم میں نے اپنے بیٹے کو مخاطب کر کے لکھی ہے لیکن مخاطب ساری نوجوان نسل ہے۔ پیش
کرتا ہوں:
میرے بیٹے نے آنکھیں اک نئی دنیا میں کھولی ہیں
اسے وہ خواب کیسے دوں
جنہیں تعبیر کرنے میں
میری اک عمر گزری ہے

Leave a comment