Mustansar Hussain Tarar

ادبی بیھٹک

اپریل 2015ء

مستنصر حسین تارڑ

مالک الملک لاشریک لہ، وحدہ لاالہ الا ہو

شمس تبریز گر خدا طلبی

خوشبو خا لا الہ الا ہو

تلاوت                :   قاری احمد ہاشمی

صوفیانہ کلام           :   طاہر پرویز مہدی

منظوم ترجمہ قرآن       :   شاہد بخاری

تعارف              :   ڈاکٹر عمرانہ مشتاق، آمنہ مفتی، عاصم بٹ،

مرزا محمد الیاس:

                                                چالیس سال پہلے بچپن۔ چیمبر لین روڈ۔

                                                لکھنے والوں کو دعوت۔ رائٹرز، مترجم ایڈیٹر

                                                آنے والوں کو خوش آمدید۔ علم و ادب کی بات

                                                انسائیکلو پیڈیا پاکستانی کا… اردو ادب اور علاقائی ادب

آمنہ مفتی:    مستنصر حسین تارڑ، لکھنے والے بولنے والے

                                                سب سے اہم بات، سیاحت،

                                                میڈیا میں کردار۔ مارننگ شوز کا آغاز معیار صبح بخیر پاکستان

مستنصر حسین تارڑ:  تجربات صبح بخیر کے حوالے سے!

مشکور   :    عمرانہ مشتاق نے مبالغہ آمیز تعارف کرایا کبھی کبھی دل کرتا ہے کہ لوگ مبالغہ سے بھی کام لیں کچھ جاننے والے  ایک صاحب کا تعارف کرانے سے پہلے کہنا کیاکہ اس مجلس کچھ نہ جاننے والے میں کچھ لوگ آپ کو جانتے ہیں اور کچھ نہیں جانتے۔آپ اپنا تعارف کس طرح کرنا پسند کریں گے۔ تو انہوں نے جواب دیا کہ جو لوگ مجھے جانتے ہیں، وہ تو جانتے ہی ہیں۔ جو نہیں جانتے، ان کی زندگی یوں بھی بہت اچھی گزر رہی ہے۔ آپ انہیں کیوں زحمت دے رہے ہیں کہ وہ میرے بارے میں ضرور جانیں۔

مجھے بتایا گیا تھا کہ اس بیٹھک میں زیادہ تر طلبہ ہوں گے۔ یہاں ایسے لوگ ہیں جن کا میں طالب علم ہوں۔ ان میں ارشاد عارف، مجیب الرحمن شامی، فرحت پروین ہیں اور بھی بہت اہم نام ہیں ان کے سامنے مجھے بہت احتیاط سے بات کرنا پڑے گی۔ مسئلہ یہ ہے کہ میں احتیاط پسند آدمی نہیں ہوں۔ بہتر یہی ہے کہ ہم ادب اور پاکستان کی صورت حال کے حوالے سے زیادہ گفتگو نہ کریں، میڈیا کی طرف ہی توجہ رکھیں۔

مجھے پوچھا گیا ہے کہ مارننگ شو کا آغاز آپ نے کیسے کیا۔ اس بارے میں بہت سی کہانیاں ہیں۔ جب اس کا آغاز ہوا اور مجھے چنا گیا تو اس کے بہت سے امیدوار اور بھی تھے۔ میں اداکاری بھی کرتا تھا، لکھنے والا بھی تھا اور کمپیئرنگ بھی کرتا تھا۔ اس لیے مجھے موزوں سمجھا گیا۔

پی ٹی وی نے مجھے دنیا میں ہونے والے مارننگ شوز جیسے گڈ مارننگ امریکہ وغیرہ نمونے کے طور پر دکھائے گئے۔ مجھے ان کو دیکھ کر اپنے شو کا طریقہ یا طرز طے کرنا تھا۔ میں نے پروڈیوسر نثار حسین سے کہا کہ یہ شوز جرمنی، امریکہ، برطانیہ وغیرہ کو تو پیش کرتے ہیں، ان میں پاکستان کی نمائندگی کا کچھ نہیں ہے۔ ہمیں پاکستان کے لیے ایک پاکستانی شو چاہیے۔ ہم اسے خود تخلیق کریں گے۔ کسی کی نقل نہیں کریں گے۔

میں نے عرض کیا کہ اس شو میں پاکستان کی شاعری ، سرزمین ، لوک ورثہ، روایات اور طرز بودوباش سب شامل ہونے چاہیں۔ میں پاکستان کا جغرافیہ، یہاں کے لوگوں کے لباس، موسیقی اور گیت پیش کرنا ہوں گے۔

میں پینٹ کوٹ ٹائی میں ملبوس رہنے والا آدمی تھا۔ شلوار کرتہ کے قریب بھی نہیں جاتا تھا۔ میں نے اپنے شو کے لیے خود کو تبدیل کیاتاکہ اس پروگرام کا تاثر بھی پاکستانی ہونا چاہیے۔ یہ پہلا موقع تھا کہ میں نے شلوار کرتہ اور ویسٹ کوٹ پہننا شروع کیے۔ جس طرح پاکستانی ہونے کی عادت پڑ جاتی ہے۔ اسی طرح سے مجھے ایسی عادت پڑی ہے کہ اب چھٹتی ہی نہیں ہے۔

مجھے بذریعہ سڑک یورپ اور مشرق وسطیٰ جانے کا موقع بھی ملتا رہا ہے۔ میں نے کبھی محب وطن پاکستانی ہونے کا دعویٰ نہیں کیا۔ میں نے کبھی اس کے ڈنکے نہیں بجائے۔ دوسروں کی حب الوطنی پر کبھی شک نہیں کیا۔ اس کے باوجود کوئی نہ کوئی ایسی چیز ہے جو مجھے آپ سے یہ سوال کرنے پر مجبور کر رہی ہے کہ آپ مجھے بتائیں کہ آپ دنیا کے کسی بھی ملک چلے جائیں یا اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹرز نیو یارک کے باہر لہراتے پرچموں میں سے پاکستان کا پرچم کیوں تلاش کرتے ہیں؟ کون سی چیز ہے جو آپ کو ایسا کرنے پر مجبور کرتی ہے؟ (زور دار تالیاں) ۔ کیا کبھی ایسا ہوا ہے کہ آپ نے ان لہراتے پرچموں کو دیکھا ہو اور اپنا پرچم تلاش نہ کیا ہو، اسے محبت بھری نگاہوں سے نہ دیکھا ہو۔

میں جب بھی بیرون ملک دورے سے واپس پاکستان طور خم سے آیا تو مجھے وہ افغانستان یاد آتا ہے جو بہت خوبصورت ملک ہوتا تھا۔ جنگ نے اسے برباد کر دیا۔ یہاں کے لوگ ہمیشہ سے پاکستان کے خلاف تھے لیکن بہت ہی خوبصورت لوگ تھے۔ کابل کے دو ہوٹلوں میں پاکستانیوں کو ٹھہرنے کی اجازت تھی۔

میں نے ایک بار لکھا تھا اور لوگ بہت ناراض بھی ہوئے تھے۔ میں نے لکھا تھا کہ جب آپ افغانستان کے راستے طور خم سے پاکستان میں داخل ہوتے ہیں تو یوں لگتا ہے کہ چپڑاسیوں کی قوم شروع ہوگئی ہے۔ ہر کوئی جھک رہا ہے، جھوٹ بول رہا ہے، منافقت سے کام لے رہا ہے۔ افغانیوں میں ایسی منافقت نہیں ہے۔ اب کا مجھے علم نہیں ہے کہ ان کی معصومیت برقرار ہے یا اسے بھی منافقت نے ختم کر دیا ہے۔

میں جب بھی طور خم سے پاکستان داخل ہوا، کبھی ایسا نہیں ہوا کہ میں نے اس کی مٹی کو چوما نہ ہو اور اس پر سجدہ ریز نہ ہوا ہوں۔ میں اس لیے نہیں کہہ رہا کہ میں آپ پر کچھ ثابت کرنا چاہ رہا ہوں۔ یہ ٹھیک ہے کہ وطن کو مذہب کہنا لوگوں کو ناگوار گزرے گا لیکن یہ پاکستان میرا مذہب ہے۔ آپ وطن کو مذہب بنائے بغیر اس سے محبت نہیں کر سکتے۔

بہت سے لوگ پوچھتے ہیں اور بار بار پوچھتے ہیں کہ پاکستان کے ساتھ کیا مسئلہ ہوا ہے؟ میرا جواب ہوتا ہے کہ ہم نے پاکستان سے محبت نہیں کی ۔ ہم دوسرے ملکوں سے ہی محبت کرتے ہیں۔ ہم میں سے بہت سے نہیں جانتے کہ بلوچستان کہاں ہے، ہمیں اپنے ہی ملک کی سرحدوں کا پتہ نہیں ہوگا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم اپنے ملک کو، اپنے پاکستان کو جانتے ہی نہیں، محبت کیسے کریں گے؟

مجھے یاد ہے کہ میں گکھڑ منڈی کے سکول میں پڑھتا تھا۔ نصاب میں اس علاقے کے دریائوں، ندی نالوں، فصلوں کی پوری تفصیل تھی۔ آپ آج کے بچے سے پوچھ کے دیکھ لیں کہ بادل کہاں کہاں ہوتا ہے، گندم کے علاقے کون سے ہیں۔ وہ نہیں جانتا۔ اسے سکھایا ہی نہیں جا رہا ہے۔ کسی نے بہت درست کہا تھا کہ جب تک آپ کو اپنے ملک کے درختوں، دریائوں، پہاڑوں، تہواروں، روایات کے بارے میں ہی علم نہیں ہوگا، آپ نہیں جانتے کہ آپ کے قریب جنگل کون سا ہے، اس میں کون سے جانور ، چرند، پرند اور درندے ہیں۔ آپ حب الوطنی کا دعویٰ نہیں کر سکتے۔

میں نے غیر ارادی طور پر صرف پاکستان کے شمال کے بارے میں بارہ سے چودہ سفرنامے لکھے اور ان دنوں پنجاب کے حوالے سے لکھ رہا ہوں۔ سندھ پر میرا سفرنامہ آنے والا ہے۔ یہ کوئی مشن نہیں ہے بلکہ یہ میرے اندر کی آواز ہے۔

انہی خیالات اور تصورات کے ساتھ مارننگ شو’’صبح بخیر ‘‘ شروع ہوا۔ میں ہمیشہ کہتا تھا کہ السلام علیکم پیارے پاکستان اور سارے پاکستان۔اعتراض کرنے والوں نے کہا کہ یہ ’’سارے‘‘ پاکستان کیا ہے۔ میں کہتا تھا کہ یہ سلام صرف اس دیکھنے والے کو نہیں پہنچ رہا بلکہ یہ پاکستان کی ندی نالیاں، پہاڑ اور دریا، ان سب کو پہنچ رہا ہے۔ یہی سارے پاکستان کی تفصیل ہے۔

اس کا تاثر بہت جاندار تھا۔ میں یہ محسوس کرتا ہوں کہ ادب ہو یا ابلاغ ہو، ان کا معاشرے پر مثبت اثر مرتب نہیں ہو رہا ہے تو یقین کیجیے کہ آپ جَھک مار رہے ہیں۔ آپ کوئی کام نہیں کر رہے یا کر پا رہے۔ آپ کو تفریح فراہم کرنے والا آپ کو ہنسا دیتا ہے۔ آپ کو کچھ دیر کے لیے ریلیف محسوس ہوتا ہے لیکن تخلیق کار معاشرے میں اپنے ناول، شعر، کہانی، تحریر و تقریر کے ذریعے فرق ڈالتا ہے، تبدیلی لاتا ہے۔

اگر آپ ادیب ہیں اور آپ کے اردگرد بہت کچھ ہو رہا ہے، اسے آپ نے بیان کرنا ہے، اسے کھولنا ہے۔ تو ۔۔۔۔کہانی لکھنے کو بہت اچھی ہوگی، اس میں بیان اور زبان کے کمالات بھی ہوں گے لیکن اس میں عزم نہیں ہوگا، آپ کا ارادہ ظاہر نہیں ہوگا۔ ہر ادیب بنیادی طور پر اپنی ایف آئی آر خود لکتھا ہے۔ وہ دوسروں کو مجرم نہیں سمجھتا۔ وہ خود اعتراف جرم کر رہا ہوتا ہے۔ یہ جرم میرے ہوتے ہوئے رونما ہو رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ جب ناکردہ جرم کی پاداش میں کسی بے گناہ کو پھانسی گھاٹ لایا جاتا ہے تو وہ سوال کرتا ہے کہ کم از کم مجھے بتا دیا جائے کہ کس جرم میں مجھے پھانسی دی جا رہی ہے۔ جلاد کہتا ہے کہ کبھی یوں ہوتا ہے کہ ساری قوم کے جرائم کی سزا کسی ایک کو دے دی جاتی ہے۔ اس لیے میں کہتا ہوں کہ اپنی قوم کے جرائم کا میں بطور ادیب ذمہ دار ہوں۔ آپ مجھے پھانسی چڑھا دیں۔

آمنہ مفتی:

تارڑ صاحب نے بجا طور پر مارننگ شو کی وجہ نزول اچھی طرح سے بیان کر دی ہے۔ آج کل بہت سے مارننگ شو ہو رہے ہیں۔ ان میں سے ایسے بھی ہیں جن کو ان کا چینل بھی اپنا نہیں کہتا۔ تارڑ صاحب کی شخصیت ہمہ جہت ہے ۔ آپ نے اداکاری بھی کی۔ ان کا مشہور مکالمہ ’’ماچس ہوگی آپ کے پاس‘‘ ایسا زبردست مقبول ہوا کہ بڑے بڑوں کو اس ماچس نے جلا کر خاک بھی کیا۔ میں عاصم بٹ صاحب سے چاہوں گی کہ وہ ادب کے حوالے سے تارڑ صاحب سے سوال کرنا چاہیں تو مائیک حاضر ہے۔

عاصم بٹ:

مستنصر صاحب کا ادبی مرتبہ سب جانتے ہیں۔ آپ نے مختلف جہتوں میں کام کیا ہے ۔ آپ کو ہمارے سوالات کی ضرورت نہیں۔ چار دہائیوں سے کالم بھی لکھ رہے ہیں۔ آپ بتائیں کہ ادیب خود کو ڈکٹیشن سے کس طرح بچا کے رکھتا ہے۔

مستنصر حسین تارڑ:

ہمارا زمانہ صرف پی ٹی وی کا زمانہ تھا۔ حکومت کی پالیسی چلتی تھی۔ ہمیں بتا دیا جاتا تھا کہ بات کیا کرنی ہے ثابت کیا کرنا ہے؟ ہم بھی پوچھ لیتے تھے لیکن اس میں فوائد شامل نہیں ہوتے تھے۔ اس کے باوجود ہم وہ کچھ کہہ دیتے تھے جو کہنا چاہتے تھے۔ کہنے کا انداز ہوتا ہے اور آپ کچھ بھی کہہ سکتے ہیں بشرطیکہ آپ کہنا چاہتے اور جانتے ہیں۔

اوجڑی کیمپ کے دھماکے ہوئے تو میں نے سارا دن براہ راست پروگرام پیش کیا۔ یہ اسلام آباد سے پروگرام تھا۔ میں جو کہنا چاہتا تھا، میں نے کہا مجھے کسی نے روکا نہیں۔ اسلام آباد کے دو تین سیکٹر خالی ہوگئے تھے۔ جب انہیں محفوظ قرار دیا گیا تو شہریوں سے درخواست کی گئی کہ واپس گھروں کو چلے جائیں۔ لوگ نہیں جانا چاہتے تھے۔ مجھے کہا گیا کہ آپ لوگوں سے درخواست کریں۔ میں نے ان سے کہا کہ مجھے یقین دلایا جائے کہ یہ سیکٹر محفوظ ہو چکے ہیں۔ مجھے پوری تفصیل بتائی گئی۔ اس درخواست کا آغاز میں نے ان الفاظ سے کیا تھا کہ خواتین و حضرات! آپ مجھے چھ سات برس سے جانتے ہیں۔ میں نے جان بوجھ کر کبھی آپ سے جھوٹ نہیں بولا۔ کسی کے کہے پر آپ کو ورغلایا نہیں ہے۔ کسی پالیسی کی وکالت نہیں کی۔ جو کچھ آپ سے کہا، صدق دل سے کہا۔ آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ میں نے کبھی کسی سیاسی پارٹی کی حمایت کی اور نہ کسی کے زندہ باد کا نعرہ ہی لگایا ہے ۔ میری ایک ہی پارٹی ہے اور وہ پاکستان کی پارٹی اسی کے لیے زندہ باد کے نعرے لگاتا ہوں۔ میں آپ سے صدق دل سے کہہ رہا ہوں کہ فلاں فلاں سیکٹر بالکل محفوظ ہے۔ آپ اپنے گھروں کو لوٹ جائیں۔ تقریباً نصف گھنٹے میں ہی ہزاروں لوگ اپنے گھروں کو لوٹ گئے۔ یہ ٹی وی کا اثر تھا۔   

Leave a comment