
مبشر علی زیدی کو لاہور آنے کی دعوت دیتے ہوئے یہ گمان میں بھی نہیں تھاکہ یہ بیٹھک ادب پر سنجیدہ اور فکاہیہ ہر دو طرح سے ایک بھرپور بیٹھک ثابت ہوگی۔ پروگرام ترتیب دینے سے پہلے باہم مشاورت میں بہت سے نکات زیر بحث رہے۔ سب سے بڑا سوال یہ تھا کہ کیا ہوگا اور آئندہ کی ادبی بیٹھک پر اس کے اثرات کیا ہوں گے؟
یہ بات بھی زیر بحث آئی کہ اتنے بڑے ناموں کی میزبانی اور حسب مراتب کا اہتمام کون رکھ سکے گا۔ قرعہ آمنہ مفتی کے نام نکلا اور انہیں دعوت دی گئی۔ اس پروگرام میں ان کے شستہ اور ہلکے پھلکے انداز نے بہت لطف بھی دیا اور معنی خیز گفتگو بھی ہوتی رہی۔
پروگرام کا آغاز تلاوت قرآن سے ہوا۔ مہمانوں میں پاکستان کے معروف ناول نگار، صحافی اور مصنف محمد حنیف، نقاد اجمل کمال، افسانہ نگار شاہد حمید اور مصنف و شاعر اور ڈرامہ نگار اصغر ندیم سید کے ساتھ ڈاکٹر عمرانہ مشتاق بھی موجود تھیں۔ افتتاحی گفتگو راقم نے بطور میزبانی رکھی اور کراچی سے اس پروگرام کے لیے خصوصی طور پر آنے والے مبشر زیدی کو زحمت دینے کا پس منظر بیان کیا۔ ان کی کتاب ’’سو لفظوں کی کہانی‘‘ پر مختصر بات کی۔ ان کے ساتھ کراچی سے تشریف لانے والے اجمل کمال کے لیے تشکر کے الفاظ پیش کیے۔ شاہد حمید اسلام آباد سے اور اصغر ندیم سید لاہور سے تشریف لائے تھے۔ محمد سہیل وڑائچ جنگ لاہور سے ، نجم ولی اور دیگر احباب بھی زندہ دلان کے شہر سے مہمانوں کو خوش آمدید کہنے آئے تھے۔
گفتگو کا آغاز نجم ولی کے کلمات سے ہوا۔ پھر یہ سلسلہ چل نکلا اور وقت پر لگا کر اڑتا گیا۔ خیال ہی نہ رہا کہ جب دن دوپہر کی گود میں اترا۔ نجم ولی نے مبشر زیدی کو خوبصورت الفاظ میں خوش آمدید کہتے ہوئے بات شروع کی۔
نجم ولی
میں مبشر زیدی کو شہر لاہور میں خوش آمدید کہتا ہوں۔ ان کی شادی کی سالگرہ پر بھی مبارک باد دیتا ہوں۔ زیدی صاحب انسانی حقوق، کتاب، آزادی اور جمہوریت کی بات کرتے ہیں۔ لوگ دوسروں پر انگلی اٹھانا ضروری خیال کرتے ہیں تاکہ انہیں شہرت ملے۔ ’’سو لفظوں کی کہانی‘‘ اس سے الگ بات ہمارے سامنے لاتی ہے۔ انسانی تجربے میں بہت کچھ آتا رہتا ہے۔ اس کتاب میں ہمارے لیے سوچنے کا الگ اسلوب متعارف کرایا گیا ہے۔ سنجدہ موضوعات کو ہلکے پھلکے انداز میں پیش کرنا ان ادیبوں اور شاعروں کے بوجھل خیالات سے کہیں زیادہ موثر اور معنی خیز ہے جو ہمارے ہاں سکالی لیب کی طرح جا بجا گرتے نظر آتے ہیں اور پھر گم ہو جاتے ہیں۔ ان کا وجدان بہت اعلیٰ ، سوچ پختہ اور الفاظ نپے تلے ہیں یہی خوبیاں انہیں خوبصورت ادیب بناتے ہوئے ہمارے سامنے لاتی ہیں۔
ڈاکٹر عمرانہ مشتاق:
ادب کی مختلف اصناف وقت کے دھارے سے نکل کر ہمارے سامنے آتی ہیں۔ ان کے سامنے آنے میں مشرق و مغرب کی قید نہیں ہے۔ مغرب سے انگریزی ادب کی توسط سے بہت کچھ آیا۔ بہت سی اصناف ادب ایسی ہیں جنہیں شروع میں تسلیم کرنے میں پس و پیش سے کام لیا گیا۔ آہستہ آہستہ یہ متعارف ہوتی گئیں اور رواج پا گئیں۔
اس دور جدید میں وقت سمٹ رہا ہے اور مشاغل پھیل رہے ہیں۔ آپ سوشل میڈیا کو لے لیں یا کمپیوٹر پر کسی مضمون کے الفاظ اور حروف کو شمار نہیں کرتے، یہ کام خود بخود ٹیکنالوجی کر دیتی ہے۔ مبشر علی زیدی نے سو لفظوں کی کہانی لکھی ہے ۔ انہیں بھی الفاظ ایک دو تین کی طرح شمار کرنا نہیں پڑتے۔ یہ کام کمپیوٹر کرتا ہے اور زیدی صاحب صرف ان کی ایڈیٹنگ کرتے ہوئے کہانی مکمل کر لیتے ہیں۔ یہ نئے رجحانات کا زمانہ ہے۔ ہمیں دیکھنا ہوگا کہ نئے ادب میں نئے رجحانات کس طرح سے جگہ بنا رہے ہیں۔ مبشر علی زیدی کی مائیکرو کہانی اپنے لیے یہ جگہ بنا چکی ہے۔
سہیل وڑائچ:
میرے پسندیدہ انگریزی شاعر جان ڈن نے پوری زندگی کی کہانی تین مصرعوں میں لکھی تھی۔
Johan Donne
And Done
Undone
وہ درباری تھے، پھرانہوں نے گھر سے بھاگ کر شادی کرلی۔ پکڑے گئے اور جیل میں ڈال دیئے گئے۔ پھر مذہب کی طرف چلے گئے۔ آخری عمر میں پادری بن گئے۔ انہوں نے تب اپنی پوری زندگی کی کہانی ان تین مصرعوں یا جملوں میں لکھی۔ میں مبشر علی زیدی کو مبارک دیتا ہو کہ ہمارے معاشرے میں جامعیت کی جگہ پھیلائو نے لے لی ہے ، مائیک چھوڑنے کو کسی کا دل نہیں کرتا۔ ایسے میں مبشر زیدی نے اختصار کا راستہ اختیار کیا۔ انہوں نے ’’سو لفظوں کی کہانی‘‘ لکھی۔ یہ جدید دور کی کہانی ہے۔ یہ جیو ٹی وی پر نو بجے کا بلیٹن دیکھتے ہیں۔ اس میں ایک لفظ اور لمحہ ناپ تول سے گزرتا ہے۔ یہ اس وقت کی اہمیت کو سمجھنے کی وجہ سے نہایت مناسب فرد تھے کہ وہ اس کام کو کریں۔ یہ محرکات کا فن ہے۔ ان کی کہانی چلتی پھرتی فلم لگتی ہے۔ شاید اسی لیے آج کی سکڑتی دنیا میں ناول، شارٹ سٹوری، ڈریبل اور فلیش فکشن سے مائیکرو کہانی تک ہم آگئے ہیں۔ بہت سے لکھنے والے اچھا موضوع چن کر اچھے طریقے سے بات شروع کر لیتے ہیں لیکن انہیں بات ختم کرنا نہیں آتی۔ یہی سب سے اہم کام ہے۔ مبشر علی زیدی اس میں اوج کمال کو پہنچے ہوئے ہیں۔
اجمل کمال:
ان کی پہلی کتاب دیکھ کر میں سوچ رہا تھا کہ ان کی خوبی یہ ہے کہ ان کی کہانی کے الفاظ کی تعداد متعین ہے۔ کیا واقعی یہ خوبی ہے؟ اسے نئی صنف کہا جا رہا ہے۔ اسے صنف کے بجائے نئی ہیئت کہا جائے تو مناسب ہوگا۔ اس کہانی میں لکھنے والا باہر سے اپنے اوپر پابندی لگاتا ہے کہ وہ اتنے الفاظ سے آگے نہیں جائے گا۔ ایسا ادب مقبولیت کے لیے لکھا جاتا ہے۔ ادب اور صحافت کے تعلق میں عام طور پر یہ بات سمجھی جاتی ہے کہ کوئی کہانی پڑھتے ہوئے آپ کسی نئی چیز کا استقبال کر رہے ہوں گے۔ آپ زندگی کو کسی نئے اور اچھے زاویے سے دیکھ سکیں گے۔ محمد خالد اختر نے ایک بار بتایا تھا کہ جب وہ ناول پر لکھ رہے تھے تو انہیں مشکلات کا کس طرح سے سامنا رہا۔ اب انہوں نے یہ کہانی لکھی ہے تو مجھے اس میں اپنے لیے سنجیدہ مسائل نظر آتے ہیں۔ ان کی تحریر سے لگتا ہے کہ جس چیز کو لکھا جا رہا ہے، اسے اس کی حیثیت سے زیادہ جگہ نہیں ملنی چاہیے۔ انہوں نے خود لکھا ہے کہ پڑھنے والے کے لیے کہانی نہ پڑنے کا کوئی جواز نہیں رہے گا۔ ان کے ذہن میں پڑھنے والے کا ایک خاص تاثر اور تصور پہلے سے موجود ہوتا ہے۔ یہ اس کی توقعات پر پورا اترنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ادب چاہتا ہے کہ آپ پڑھنے والے کی توقعات کے خلاف جائیں۔ شارٹ فکشن کا ایک مجموعہ ’’سیاہ حاشیے‘‘ ہے۔ یہ سعادت حسن منٹو نے لکھا ہے۔ اس میں انہوں نے چھوٹے چھوٹے واقعات سے لوگوں کی توقعات کو توڑا ہے۔ حسن عسکری نے دیباچے میں ان واقعات کو لطیفے بھی کہا ہے۔ وہ عظیم کہلانے والوں کو یوں پیش کرتا ہے کہ وہ عظیم ہر گز نہیں ہیں۔ آپ کے بنائے سماج میں بے پناہ خرابیاں ہیں۔
مبشر علی زیدی کی تکنیک میلوڈرامہ کی ہے۔ جب آپ جانی پہچانی باتیں کرتے ہیں تو لوگ سوچتے ہیں کہ یہ نظام جس طرح سے کام کر رہا ہے، وہ بالکل ٹھیک ہے۔ اس پر زیادہ غور کرنے کی ضرورت ہے۔ لوگوں کے پاس وقت کم نہیں ہے۔ اس حوالے سے اسے دیکھنے کی ضرورت ہے۔
شاہد حمید:
یہ گفتگو بہت اچھے انداز سے آگے بڑھ رہی ہے۔ اجمل کمال نے بہت اہم سوالات اٹھائے ہیں۔ زندگی کو نئے سر ے سے سامنے لانے کا نام فکشن ہے۔ اگر آپ کو علم ہو یا ہو جائے کہ آپ کی زندگی کتنی ہے تو کیا میں اور آپ اسے گن گن کر گزار سکتے ہیں؟ ایسا نہیں ہوتا۔ آپ جتنے سال گنیں گے، اتنے سال زندگی کم ہوتی جائے گی۔ اسی لیے ادب کا سوال اور ہو جاتا ہے۔ ادب میں چھوٹی کہانیاں بھی ہیں۔ ہماری انسانی و ادبی تاریخ ان سے بھری پڑی ہے۔ ہم نے شیخ سعدی کی حکایات بھی سنی ہیں۔ ہماری نانی اور دادی بھی بہت کچھ ہم سب کو سناتی رہی ہیں۔
مبشر علی زیدی سے گفتگو ہوئی تو میں نے کہا کہ میں گائوں کا رہنے والا آدمی ہوں۔ وقت کا مسئلہ شہر والوں کا ہو سکتا ہے، گائوں والوں کے پاس یہ بہت وافر ہوتا ہے ۔ سورج نکلتے نکلتے وہ بہت سے کام کر چکے ہوتے ہیں۔ ان کے پاس کہانیاں سنانے اور سننے کے لیے بہت وقت ہوتا ہے۔ وہ زندگی جینے کا فن بھی بخوبی جانتے ہیں۔ جب ہم اپنی خالہ کے پاس جاتے تو وہ بھی کہانیاں سنایا کرتی تھیں۔ یہ چھوٹی چھوٹی حکایتیں ہیں۔ ان میں زندگی بھری ہوتی ہے۔ ان میں زندگی کو بیان کرنے کا پورا سلیقہ تھا۔
آپ سعادت حسن منٹو کو لے لیجیے۔ وہ پندرہ سولہ الفاظ میں کہانی کہہ دیتا ہے وہ کہتا ہے کہ ابھی تو اس میں جان باقی ہے۔ میں ابھی تھک گیا ہوں۔ یہ بات مارنے والا کہہ رہا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ منٹو کو بھی بڑی کہانیاں لکھنی پڑیں۔ صرف نوٹ گنے جا سکتے ہیں کیونکہ یہ گنتی والی چیز ہے۔ گنتی والی چیز سے زندگی کو گزار ا نہیں جاسکتا۔ لفظوں کے ساتھ جینا پڑتا ہے۔
مبشر علی زیدی کی کہانیاں لے لیجیے۔ یہ کم درجے کی کہانیاں ہیں۔ اس میں شک نہیں ہے کہ یہ بندہ تہذیبی آدمی ہے۔ یہ اپنی زمین سے جڑا ہوا ہے۔ ان کا اپنے وطن سے رشتہ برقرار ہے۔ مبشر جب زیارات پر گئے تھے تو وہاں سے انہوں نے کچھ پوسٹ سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کی تھیں۔ بعض دفعہ تو پڑھتے ہوئے مجھے رونا بھی آگیا۔ ان میں گہری بات کرنے کا ہنر ہے۔ ان کہانیوں میں بھی بڑی بڑی باتیں کہی گئیں ہیں تاہم مجھے توقع ہے کہ ان سے ہمیں بڑی کہانیاں بھی ضرور ملیں گی۔
اصغر ندیم سید:
’’سو لفظوں کی کہانی‘‘ کی صنف کیا ہے پارس کی کیا تعریف ہے، اس وقت میرے پیش نظر یہ بات نہیں ہے۔ کچھ باتیں ضروری ہیں۔ اجمل کمال نے جب یہ کہا کہ جب تخلیق کار اپنے اوپر ایسی پابندی لگا لیتا ہے کہ اسے اپنی بات سو لفظوں میں مکمل کرنی ہے تو فوری دقت یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے اندر کے مطالبات ، داخلی کیفیات ضروری نہیں کہ پوری ہو سکیں ۔ اسی بات کو لیں تو دنیا کا عظیم فکشن اسی بات سے تخیلق ہوا ہے۔ وہ ادب الف لیلیٰ ہے۔ ہزار داستان ہے۔ اس میں پابندی تھی کہ شہر زادے جو کہانی کہنی ہے، وہ اسی رات میں کہنی ہے۔ گویا پابندی تو وہاں بھی تھی۔ کہانی کہنے کا وقت متعین ہے۔ الف لیلیٰ دنیا کا عظیم ادب طے پایا۔ پابندی کو بھی سامنے رکھنا چاہیے کہ یہ کیا ہے اور کس قدر ہے۔ تخلیقی قوت پر اس کے اثرات کس طرح مرتب ہوتے ہیں۔ یہ ذاتی تجربے کا معاملہ ہے۔
مبشر علی زیدی کی کہانیوں تک بات آتی ہے تو ہماری نثری نظم کی ابتداء بھی ایسے ہوئی تھی منٹو نے مِنی کہانیاں لکھیں اور انہیں یہ نام بھی دیا۔ اس کتاب میں دنیا کی مختصر ترین کہانیوں کا انتخاب بھی دیا گیا ہے۔ اس میں ایک کہانی کاذکر رہ گیا ہے۔ یہ کہانی سب سے پہلے سامنے آتی تھی۔ وہ دنیا کی مختصر ترین کہانی تھی ۔ وہ یہ تھی کہ ایک آدمی نے دوسرے سے ، پوچھا: کیا تم بھوتوں پر یقین رکھتے ہو؟ یہ سن کر دوسرا آدمی غائب ہو گیا۔
منیر نیازی نے بھی ایک کمال کیا۔ انہوں نے ایسی نظم لکھی جس کا عنوان تین گنا لمبا ہے، نظم چھوٹی ہے، عنوان ہے، ’’ویلے تو اگے لنگ جان دی سزا‘‘ نظم اتنی سی ہے:
بندہ کلا رہ جاندا اے
بوتے یار بناون نال
مبشر کی تمام کہانیوں میں ایک تاثر ہے ۔ یہ مقناطیسیت کا تاثر ہے۔ میں اسے بہت اعلیٰ درجے کے کارٹون سے ملاتا ہوں۔ ایسا کارٹون بہت خوفناک شے ہے۔ اسے دیکھتے ہی آپ کے چہرے پر مسرت پیدا ہوتی ہے لیکن اگلے ہی لمحے وہ کارٹون آپ کے اندر کے درد کو جگانے لگتا ہے۔ مبشر کی کہانیاں بھی بالکل ایسی ہی ہیں۔ایک لمحے میں ان کا مقناطیسی اثر ہم لیتے ہیں، لطف اٹھاتے ہیں اور ساتھ ہی کہانی دوسرا سفر شروع کر دیتی ہے۔ آپ کے اندر کا درد جاگنے لگتا ہے۔ یہ اثر پذیری ہی اس صنف کا جواز ہے۔ اس کہانی کی ساری طاقت اس کی آخری لائن میں ہوتی ہے۔ یہ بڑا مشکل فن ہے کہ ساری عمارت ایک اینٹ پر کھڑی کی گئی ہے۔ یہ بین السطور فن ہے اور ادب کا نہایت اہم حصہ ہے۔
مبشر علی زیدی:
اتنی تعریف سننے کے بعد گمان گزر رہا ہے کہ کسی اور کے لیے پروگرام ہو رہا ہے۔ میں لاہور پہنچا تو مجھے تقریباً سب نے بتایا کہ لاہور تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ آج یہاں اتنے سارے لوگوں کو دیکھ کر مجھے سمجھ میں آیا ہے کہ کیو ں ترقی کر رہا ہے۔ کتاب سے محبت کرنے والے چھٹی کے دن اور پھر صبح کے وقت جمع ہو سکیں گے، تو یہی وجہ ترقی کی ہو سکتی ہے۔ مجھے تو کچھ کہنا تھا، وہ پہلے سے کہا جا چکا ہے۔ کہانی سنانے والے کے پاس کہانی ہی ہو سکتی ہے۔ میں چاہتا تھا کہ یہاں کوئی شخص ایسا ہو جو مجھے مسترد کر دے کہ یہ بیکار لکھتا ہے۔ اجمل کمال نے کافی حد تک یہ کام کر دیا ہے۔ اسی طرح کا اعتراض پہلے بھی ہوا تھا اور میں نے اسے اپنی کتاب میں شامل بھی کیا ہے۔ مجھے اس کا جواب نہیں دینا چاہیے۔ مجھے مسترد کیا جائے گا تو میں اور بھی سیکھوں گا اور اچھا لکھ سکوں گا۔ لیکن یہ کہنا کہ شارٹ یا فلیش فکشن کسی کام کا ہی نہیں ہے، منی ایچرآرٹ بھی ہوتا ہے ، ہم اسے بھی پسند کرتے ہیں۔ لوگوں نے اس میں شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ میں فقط کوشش کر رہا ہوں۔
اصغر ندیم سید نے درست کہا ہے کہ فلیش فکشن میں یوں ہی ہوتا ہے کہ آدھا لکھنے والا لکھتا ہے اور آدھا پڑھنے والا سوچتا ہے۔ اسے سو لفظوں کی کہانی آپ بھلے نہ سمجھیں۔ اسے یوں لیں کہ کچھ الفاظ میں نے آپ کی نذر کر دیئے ہیں۔ باقی ساری کہانی آپ نے سوچنی ہے۔ یہ تخیل کی اڑان ہے۔ یہ پرومو ہے۔ میں آپ کو پڑھنے کی طرف کھینچ کے لا رہا ہوںتاکہ آپ پڑھیں۔ نٹو نے جنس پر لکھا ، لوگ اسی کو پکڑ کر بیٹھ گئے۔ میرے سو لفظوں کو ایک جادوئی ہندسہ سمجھا جائے جن کے ذریعے آپ کو میں اپنی طرف کھینچتا ہوں۔ ہمارا کام پیغام پہنچانا ہے۔
یونیورسٹی کا یہ پروگرام شاندار پیش رفت ہے۔ یہ سلسلہ ہر یونیورسٹی میں ہونا چاہیے۔ اس طرح لکھنے اور پڑھنے والوں میں رابطہ ہوتا ہے۔ نئے لکھنے والے بھی مل سکتے ہیں۔
ْمحمد حنیف:
آمنہ نے کہا ہے کہ میں ایڈیٹنگ کرنے نہیں دیتا،سوچے بغیر لکھتا ہوں، طویل لکھتا ہوں۔ شکریہ ان کا لیکن میں کہوں گا کہ یہ سارے کام بے سوچے کون کر سکتا ہے۔ چنانچہ میں بھی نہیں کر سکتا۔ آمنہ مفتی لمبی لمبی کتابیں لکھتی ہیں اور مبشر زیدی چھوٹی چھوٹی کہانیاں سناتے ہیں۔ سہیل وڑائچ صاحب کی ایک بات بالکل غلط ہے، کہانی سو لفظوں کی ہو، بلا شبہ ہو لیکن لکھنے والا چاہتا ہے کہ تعریف سارا دن ہوتی رہے۔ میں خود لکھتا ہوں۔ ہمارے ایک درست تھے، انہوں نے ایک ہی کتاب لکھی تھی کہ ان کا انتقال ہو گیا۔ جب بھی ان کے مسودے پر باتی ہوتی تو کہتے تھے کہ بے شک تم جھوٹ بول رہے ہو لیکن تمہاری بات کا مزہ بہت آرہا ہے( پنجابی میں)۔ اسے جاری رکھ۔
یہاں صنف پر خاصی بات ہوتی ہے۔ مبشر اور میں دونوں صحافی بھی ہیں اور فکشن بھی لکھتے ہیں۔ مجھے یوں لگ رہا تھا کہ بہت عرصے سے گھر میں اولاد نہ ہو رہی ہو تو بچہ پیدا ہو جائے اور یہ فیصلہ نہ ہو سکے کہ کڑی (لڑکی) ہوئی ہے کہ منڈا(لڑکا ) ہوا ہے۔ یہ چیز کیا ہے اور کہاں سے آئی ہے؟ مجھے اس سے کچھ زیادہ سروکار نہیں ہے۔ لفظ سو ہوں یا پانچ سو ہوں یا پھر پانچ لا کھ ہی ہو جائیں، یہ آپ پر ہے کہ جتنے الفاظ بھی لکھ لیں۔ کئی سال ہوئے ہیں کہ میں ہر روز بیٹھتا ہو ں اور ان سے آگے نکل جاتا ہوں۔ میں بغیر لفظوں کی کہانی لکھتا ہوں۔ میرے ذہن میں پوری کہانی ہوتی ہے۔ شام ڈھلتی ہے لیکن صفحہ خالی ہی رہ جاتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ کسی دن یہ صنف بھی قبولیت کی سند پانے میں کامیاب ہو جائے۔
میں مبشر زیدی کی دو باتیں کرنا چاہوں گا۔ مجھے عوامی ادب پر کوئی اعتراض ہے اور نہ مجھے اس میں کوئی تضاد نظر آتا ہے۔ ہم میں سے بہت سے لوگ پکے راگ سنتے ہوں گے۔ ایسے بھی ہوں گے جو نصیبو لال کو سنتے ہوں گے۔ کتابیں ایک دوسرے کی دشمن نہیں ہوتیں ۔ ایک طرف کوئی مقبول عام ناول رکھا ہوتا ہے، ساتھ ہی ادب کا شاہکار بھی پڑا ہے، یہ کتابیں لڑتی نہیں ہیں۔ قاری ایک دن ایک اور دوسرے دن دوسری کتاب پڑھ سکتا ہے۔ مبشر زیدی کی کہانیوں میں درد مندی کا پہلو نمایاں ہے۔ غربت کا پہلو بھی نمایاں ہے۔ درد مندی ادب میں زیادہ فیشن نہیں ہے۔
جنگ میں ان کہانیاں چھپنی شروع ہوئی ہیں۔ ایک خطرے کا خیال صحافی کو رکھنا چاہیے۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ کیا چھپے گا اور کیا نہیں چھپ سکے گا۔ کہانی لکھتے ہوئے پتہ نہیں چلتا کہ لکھنے والا کدھر جا رہا ہے۔ مبشر کو یہ خیال رکھنا چاہیے کہ کہانی اس خوف سے آزاد ہونی چاہیے کہ یہ چھپے گی یا نہیں۔ مبشر یہ بات تسلیم کریں یا نہ کریں، یہ بات ہو جاتی ہے۔ ہماری کہانی کسی بھی ایڈیٹر کے گھر کی لونڈی نہیں ہو سکتی۔
